Print Page Options Listen to Reading
Previous Prev Day Next DayNext

The Daily Audio Bible

This reading plan is provided by Brian Hardin from Daily Audio Bible.
Duration: 731 days

Today's audio is from the NET. Switch to the NET to read along with the audio.

Urdu Bible: Easy-to-Read Version (ERV-UR)
Version
روت 2-4

رُوت کا بوعز سے ملنا

بیت اللحم میں ایک دولتمند آدمی رہتا تھا۔ اس کانام بوعز تھا۔ بوعز الیملک خاندان سے نعومی کے قریبی رشتے دار وں میں سے تھا۔

ایک دن رُوت ( موآبی عورت ) نے نعومی سے کہا ، “میں سوچتی ہوں کہ میں کھیتوں میں جاؤں شاید کہ کو ئی ایسا آدمی مجھے ملے جو مجھ پر رحم کرکے اس اناج کو اکٹھا کرنے کی اجازت دے ، جسے وہ اپنے کھیت میں چھو ڑ دیتا ہے۔ ”

نعومی نے کہا ، “بیٹی ٹھیک ہے ، جا ؤ ! ” اس لئے رُوت کھیتوں میں گئی وہ فصل کاٹنے وا لے مزدوروں کے پیچھے چلتی رہی اور اس نے اس اجناس کو اِکٹھا کیا جو چھو ڑدیا گیا تھا۔ ایسا ہوا کہ اس کھیت کا ایک حصّہ الیملک خاندان کے آدمی بوعز کا تھا۔

بعد میں ، بیت اللحم سے بوعز کھیت میں آیا۔ بوعز نے اپنے مزدوروں کا استقبال کیا۔ اس نے کہا : خداوند تمہا رے ساتھ ہو۔ ”

مزدوروں نے جواب دیا ، “خداوند آپ کو خیرو برکت دے۔” تب بوعز اپنے نوکر سے بولا جو مزدورو ں کا نگراں کار تھا۔ اس نے پو چھا ، “وہ لڑکی کس کی ہے ؟”

خادم نے جواب دیا ، “یہ وہی موآبی عورت ہے جو موآب کے پہا ڑی ملک سے نعومی کے ساتھ آئی ہے۔ وہ آج صبح سویرے آئی اور مجھ سے اس نے پو چھا کہ کیا میں مز دورو ں کے پیچھے چل سکتی ہوں اور زمین پر گرے اناج کو جمع کر سکتی ہوں اور تب سے وہ یہ کام کر رہی ہے۔ سوائے اس کے جب وہ پناہ گاہ میں تھو ڑی سی آرام کی۔”

تب بوعز نے رُوت سے کہا ، “اے میری بیٹی سُنو ، تم اپنے لئے اناج جمع کر نے کے لئے میرے کھیت میں رہو۔ تمہیں کسی دوسرے کھیت میں جانے کی ضرو رت نہیں ہے۔ میری مزدور عورتوں کے پیچھے چلتی رہو۔ نظر رکھو کہ وہ کس کھیت میں جا رہی ہیں اور اُن کے پیچھے چلو۔ میں نے نوجوانوں کو انتباہ کر دیا ہے کہ وہ تمہیں پریشان نہ کریں۔ جب تمہیں پیاس لگے ، تو اسی گھڑے سے پانی پیو جس سے میرے کام کرنے وا لے بھی پانی پیتے پیں۔”

10 تب رُوت بہت نیچے زمین تک جھکی اور بوعز سے کہا ، “مجھے تعجب ہوا کہ آپ نے مجھ پر توجہ دی۔میں ایک اجنبی ہوں لیکن آپ نے مجھ پر بڑی مہربانی کی۔”

11 بوعز نے اسے جواب دیا، “میں تیری ان ساری خدمتوں کو جانتا ہوں جو تم نے اپنی ساس نعومی کے لئے کی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ تم نے اس کی مدد اپنے شوہر کے مرنے کے بعد بھی کی تھی اور میں جانتا ہوں کہ تم اپنے ماں باپ اور اپنا ملک چھو ڑ کر اس ملک میں یہاں آئی ہو۔ تم اس ملک کے کسی بھی آدمی کو نہیں جانتی پھر بھی تم یہا ں نعومی کے ساتھ آئی۔ 12 خداوند تمہیں ان تمام اچھے کا موں کے لئے پھل دیگا جو تم نے کیا ہے۔ خداوند ، اسرا ئیل کا خدا تمہیں پو را بدلہ دیگا۔ تم اس کے پاس حفا ظت کے لئے آئی ہو اور وہ تمہا ری حفاظت کرے گا۔”

13 تب روت نے کہا ، “جناب آپ مجھ پر بہت مہربان ہیں۔ میں تو صرف ایک خادمہ ہوں۔ میں آپ کے ایک خادم کے بھی برابر نہیں ہو ں۔ لیکن پھر بھی آپنے مجھ سے رحمدلی کی باتیں کیں اور مجھے اطمینان دلا یا۔”

14 دوپہر کے کھانے کے وقت بوعز نے روت سے کہا ، “یہاں آؤ ہماری روٹیوں میں سے کھا ؤ۔ ہمارے سِرکہ میں اپنی روٹی ڈبولو۔”

اس طرح ، رُوت مز دوروں کے ساتھ بیٹھ گئی۔ بوعز نے اسے ڈھیر سارا بھُنا ہوا اناج دیا۔ روت جی بھر کر کھا ئی اور تھو ڑا کھانا بچ بھی گیا۔ 15 تب روت اٹھی اور کام کرنے واپس چلی گئی۔

تب بوعز نے اپنے نوکروں سے کہا ، “روت کو اناج کے ڈھیروں کے پاس بھی اناج جمع کرنے دو اسے مت روکو۔ 16 اس کے کام کو اس کے لئے کچھ بھری بالیاں گرا کر ہلکا کرو اسے اس اناج کو اکٹھا کرنے دو اسے منع مت کرو۔ ”

نعومی کا بوعز کے بارے میں سُننا

17 رُوت نے شام تک کھیت میں کام کیا۔ اس نے بھو سے سے اناج کو الگ کیا تو تقریباً آدھا بوشل جَو نکلا۔ 18 روت اس اناج کو جسے کہ اس نے جمع کی تھی قصبہ میں اپنی ساس کو دکھانے کے لئے لے گئی۔ اس نے اسے وہ کھانا بھی دیا جو دوپہر کے کھانے میں سے بچ گیا تھا۔

19 اس کی ساس نے اس سے پو چھا ، “یہ اناج تم نے کہاں سے جمع کیا ہے ؟ تم نے کہاں کام کیا ؟ اس آدمی کو خداوند کا فضل ملے جس نے تم پر توجہ دی۔”

تب روت نے اسے بتا یا کہ اس نے کس کے ساتھ کام کیا تھا۔ اس نے کہا ، “جس آدمی کے ساتھ میں نے کام کیا تھا اس کانام بوعز ہے۔” نعومی نے اپنی بہو سے کہا ، “ خداوند اس پر فضل کرے۔ خداوند زندو ں اور مردوں پر مسلسل اپنا رحم دکھا تا رہے۔”

20 تب نعومی نے اپنی بہو سے کہا ، “ بوعز ہمارے رشتے داروں میں سے ایک ہے۔ بوعز ہماری حفاظت کرنے وا لوں میں سے ایک ہے۔”

21 تب روت نے کہا ، “بوعز نے مجھے واپس آنے اور کا م کرنے کو بھی کہا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ میں اس کے نوکروں کے ساتھ قریب رہ کر تب تک کام کرتی رہوں جب تک فصل کی کٹا ئی پو ری نہیں ہو جا تی۔”

22 تب نعومی نے اپنی بہو روت سے کہا ، “یہ اچھا ہے کہ تم اس کی خادماؤں کے ساتھ کام مسلسل کرتی رہو۔ اگر تم کسی دوسرے آدمی کے کھیت میں کام کرو گی تو کو ئی بھی آدمی تمہیں نقصان پہو نچا سکتا ہے۔” 23 اس لئے روت بوعز کی خادماؤں کے ساتھ کام کرتی رہی اس نے تب تک اناج جمع کیا جب تک جو کی کٹا ئی پو ری نہیں ہو گئی تھی۔ اس نے وہاں گیہوں کی کٹا ئی میں بھی آخیر تک کام کیا۔ روت اپنی ساس نعومی کے ساتھ رہنے لگی۔

کھلیان

تب رُوت کی ساس نعومی نے کہا ، “میری بیٹی ! شاید کہ میں تیرے لئے ایک شوہر اور گھر پا سکوں۔ تو وہ تیرے لئے اچھا ہو گا۔ شاید کہ بوعز صحیح آدمی ہے۔ بوعز ہمارا قریبی رشتے دار ہے۔ تم نے اس کی خادماؤں کے ساتھ کام کیا ہے آ ج رات وہ کھلیان میں کام کر رہا ہو گا۔ جا ؤ ، نہا ؤ ،اپنے آپ کو معطر کرو ، اچھا لباس پہنو اور کھلیان میں جا ؤ، لیکن اپنے آپ کو بو عز کو نہ دکھا نا ، جب تک کہ وہ رات کا کھانا نہ کھا لے۔ کھانا کھانے کے بعد وہ آرام کرنے کے لئے لیٹے گا۔ دیکھتی رہنا تا کہ تم جان سکو گی کہ وہ کہاں لیٹتا ہے۔ تب وہاں جانا اور ا س کے پیر کے لباس کو اٹھانا اور وہاں بوعز کے ساتھ سو جانا۔ وہ بتا ئیگا کہ تمہیں شادی کے لئے کیا کرنا ہو گا۔

تب روت نے جواب دیا ، “آپ جو کرنے کو کہتی ہیں میں وہی کروں گی۔”

اس لئے رُوت کھلیان گئی۔ روت نے وہ سب کچھ کیا جو اس کی ساس نے اس سے کرنے کو کہا تھا۔ کھانے اور پینے کے بعد بوعز مطمئن تھا۔ وہ اناج کے ڈھیر کے پاس لیٹنے گیا۔ تب روت چپکے سے اس کے پاس گئی اور اس نے اس کے پیروں کا لباس اٹھا دیا۔ رُوت اس کے پیروں کے پاس لیٹ گئی۔

تقریباً آدھی رات کو بوعز نے نیند میں اپنی کروٹ بدلی اور وہ جاگ پڑا وہ بہت حیران ہوا ایک عورت اس کے پیرو ں کے قریب تھی۔ بوعز نے کہا ، “تم کون ہو ؟ ”

اس نے کہا ، “میں تمہا ری باندی روت ہو ں۔ اپنا اوڑھنا میرے اوپر پھیلا دو۔ [a] تم میرے محافظ ہو۔”

10 تب بوعزنے کہا ، “اے جوان عورت خدا وند تم پر فضل کرے تم نے مجھ پر خاص مہربانی کی ہے تمہاری یہ مہربانی میرے ساتھ اس سے بھی زیادہ ہے جو تم نے شروع میں نعومی کے ساتھ دکھا ئی تھی۔ تم شادی کے لئے کسی بھی دولت مند یا غریب نو جوان کو تلاش کر سکتی تھیں لیکن تم نے ویسا نہیں کیا۔ 11 اے جوان عورت اب ڈرو نہیں ، میں وہی کروں گا جو تم کہتی ہو۔ ہمارے شہر کے تمام لوگ جانتے ہیں کہ تم ایک بہت اچھی عورت ہو۔ 12 اور یہ سچ ہے کہ میں تمہارے خاندان کا قریبی رشتے دار ہوں۔ لیکن یہاں ایک دوسرا آدمی ہے جو تمہارے خاندان کا مجھ سے بھی زیادہ قریب کا رشتے دار ہے۔ 13 آج کی رات تم یہیں ٹھہرو۔ صبح ہم پتہ لگائیں گے کہ کیا وہ ہماری مدد کریگا۔ اگر وہ تمہاری مدد کرنے کا فیصلہ کرتا ہے ،تو بہتر ہے۔ اگر وہ تمہاری مدد کرنے سے انکار کرتا ہے ، تو خدا وند کے وجود کو گواہ کر کے میں وعدہ کرتا ہوں ،کہ میں تم سے شادی کروں گا اور الیملک کی زمین کو تمہارے لئے خرید کر لوٹا دونگا ، اس لئے صبح تک یہاں لیٹی رہو۔

14 اس لئے ، روت بوعز کے پیروں کے پاس صبح تک لیٹی رہی۔ وہ اس وقت اٹھی جبکہ ابھی اندھیرا ہی تھا ،اس سے پہلے کہ کوئی اسے پہچان سکے۔

بوعز نے اس سے کہا ، “ ہم اسے راز میں رکھیں گے کہ تم پچھلی رات میرے پاس آئی تھی۔” 15 تب بوعز نے یہ بھی کہا ، “اپنی چادر میرے پاس لاؤ اور اسے پھیلاؤ۔”

اس لئے روت اپنی چادر کو کھول کر رکھی۔بوعز نے تقریباً ایک بوشل جَو ناپا اور اُس کی ساس نعومی کے لئے تحفہ کے طور پر دی۔ تب بوعز نے اسے چادر میں لپیٹا اور اسے اس کی پیٹھ پر رکھ دیا تب بوعز شہر چلا گیا۔

16 روت اپنی ساس نعومی کے گھر گئی۔ نعومی دروازہ پر گئی اور پوچھی ، “کون ہے ؟”

روت گھر میں اندر گئی اور اُس نے نعومی سے سب کچھ جو بوعز نے اس سے کہا تھا بتایا۔ 17 اس نے کہا ، “بوعز نے یہ جَو تحفہ کے طور پر تمہیں دیا ہے۔ بوعز نے کہا کہ آپ کے لئے تحفہ کے لئے بغیر مجھے گھر نہیں جانا چاہئے۔” 18 نعومی نے کہا ، “بیٹی ، تب تک صبر کرو جب تک ہم یہ سُنیں کہ کیا ہوتا ہے۔ بوعز اس وقت تک آرام نہیں کرے گا ،جب تک وہ اسے پورا نہیں کرلیتا جو اُسے کرنا چاہئے۔ ہم لوگوں کو شام تک معلوم ہو جائیگا کہ کیا ہوگا ؟”

بوعزاور دوسرے رشتے دار

بوعز اس جگہ پر گیا جہاں شہر کے پھاٹک کے قریب لوگ جمع ہوئے ہیں۔ بوعز اس وقت تک وہاں بیٹھا رہا جب تک کہ وہ قریبی رشتے دار وہاں سے نہیں گزرا جس کا ذکر بوعز نے رُوت سے کیا تھا۔ بوعز نے اسے بلایا “ دوست یہاں آؤ بیٹھو۔”

تب بوعز نے وہاں گواہوں کو جمع کیا۔ بوعز نے شہر کے دس بزرگوں کو ایک ساتھ جمع کیا اور اس نے ان سے کہا ، “یہاں بیٹھو ” اس لئے وہ سب بیٹھ گئے

تب بوعز نے قریبی رشتہ دار سے باتیں کیں۔ اس نے کہا ، “نعومی موآب کے پہاڑی ملک سے واپس آئی ہے وہ اس زمین [b] کو بیچ رہی ہے جو ہمارے رشتہ دار ، الیملک کی ہے۔ “میں نے طئے کیا ہے کہ اس کے بارے میں یہاں رہنے والے لوگوں اور اپنے لوگوں کے بزرگوں کے سامنے تم سے کہوں۔ اگر تم زمین کو واپس خریدنا چاہتے ہو ، تو اُسے خرید لو۔ اگر تم زمین کو چھڑانا نہیں چاہتے ہو ، تو مجھے بتاؤ۔ میں جانتا ہوں کہ تمہارے بعد وہ آدمی میں ہی ہوں جو اس زمین کو چھڑا سکتا ہوں۔ اگر تم زمین کو واپس نہیں خریدتے ہو ، تو اسے میں خریدونگا۔” تب اس آدمی نے کہا : “میں اسے چھڑاؤنگا۔”

تب بوعز نے کہا ، “اگر تم زمین نعومی سے خریدتے ہو ، تو تمہیں مرحوم کی بیوی رُوت ( موآبی عور ت) بھی ملے گی۔ جب روت کو بچہ ہوگا ، تو وہ زمین اس بچّہ کی ہوگی۔ اس طرح زمین مرحوم کے خاندان میں ہی رہے گی۔”

قریبی رشتے دار نے جواب دیا ، “میں زمین کو واپس خرید نہیں سکتا۔ یہ زمین میری ہی ہونی چاہئے تھی ، لیکن میں اسے خرید نہیں سکتا۔ اگر میں ایسا کروں ، تو مجھے اپنی زمین سے ہاتھ دھو نا پڑ سکتا ہے۔ اس لئے تم اس زمین کو خرید سکتے ہو۔ ” ( اسرائیل میں بہت دنوں پہلے، اگر لوگ کسی جائیداد کو خریدتا یا چھڑاتا ، تو ایک شخص اپنا جوتا اتارتا تھا اور دوسرے شخص کو دیتا تھا۔ یہ ان کے خریدنے کا ثبوت تھا۔ ) اس لئے اس قریبی رشتے دار نے کہا ، “ زمین خرید لو ” تب اس قریبی رشتے دار نے اپنا جوتا اتارا اور اسے بوعز کو دیدیا۔

تب بوعز نے بزرگوں اور سب لوگوں سے کہا ، آج آپ لوگ میرے گواہ ہیں کہ میں نعومی سے وہ سب چیزیں خرید رہا ہوں جو الیملک ، کلیون اور محلون کی ہیں۔ 10 میں محلون کی بیوہ موآبی عورت روت کو بھی اپنی بیوی بنانے کے لئے خرید رہا ہوں۔ میں یہ اس لئے کر رہا ہوں کہ مرے ہوئے آدمی کی جائیداد اس کے خاندان میں ہی رہے گی۔ اس طرح ، مرحوم کانام اسکے خاندان اور اسکی زمین سے الگ نہیں کیا جائے گا۔ آپ لوگ آج اس کے گواہ ہیں۔

11 اس طرح ، سب لوگ اور بزرگ جو شہر کے پھا ٹک کے قریب تھے گواہ تھے۔ انہوں نے کہا ،

“یہ عورت
    جو تمہارے گھر آرہی ہے،
خدا وند اسے راخل اور لیاہ جیسی بنائے
    جس نے اسرائیل کے گھر کو بنایا۔
افراتہ میں طاقتور رہو
    بیت اللحم میں مشہور ہو!
12 تمر نے جیسے یہوداہ کے بیٹے فارص کو پیدا کیا۔
    اور اس کا خاندان عظیم ہوا۔
اسی طرح ، خدا وند تمہیں روت سے کئی بچّے دے۔
    اور تمہارا خاندان بھی اس کی طرح عظیم ہو۔

13 اس طرح بوعز نے روت سے شادی کی۔ خدا وند نے روت کو حاملہ کیا اور روت کو ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 14 شہر کی عورتوں نے نعومی سے کہا ،

“اس خدا وند کی تعریف کرو جس نے تمہیں یہ بچہ دیا۔
    وہ اسرائیل میں مشہور ہوگا۔
15 وہ تمہیں پھر از سرِ نو جوان بنا دیگا۔
    اور تمہارے بڑھا پے میں وہ تمہارا دھیان رکھے گا۔
تمہاری بہو کے سبب یہ ہوا ہے۔
    وہ تمہارے لئے اس بچے کو جنم دی۔
وہ تم سے پیار کر تی ہے۔
    اور وہ تمہارے لئے سات بیٹوں سے بڑھکر ہے۔ ”

16 نعومی نے لڑ کے کو لیا اور اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لی اور اسکی نگہداشت کی۔ 17 پڑوسیوں نے بچے کا نام رکھا۔ ان عورتوں نے کہا ، “اب نعومی کے پاس بیٹا ہے ! ” پڑوسیوں نے اس کا نام عوبید رکھا۔ عوبید یسّی کا باپ تھا اور یسّی بادشاہ داؤد کا باپ تھا۔

روت اور بوعز کا خاندان

18 فارص کے خاندان کی تاریخ یہ ہے :

فارص حصرون کا باپ تھا۔

19 حصرون رام کا باپ تھا۔

رام عمینداب کا باپ تھا۔

20 عمینداب نحسون کا باپ تھا۔

نحسون سلمون کا باپ تھا۔

21 سلمون بوعز کا باپ تھا۔

بوعز عوبید کا باپ تھا۔

22 عوبید یسّی کا باپ تھا۔

یسّی داؤد کا باپ تھا۔

یوحنا 4:43-54

یسوع کا وزیر کے لڑ کے کا علاج کر نا

43 دو دن بعد یسوع نے شہر چھو ڑا اور گلیل روا نہ ہو گئے۔ 44 یسوع کہہ چکے تھے کہ اس سے قبل لوگوں نے اپنے ہی شہر میں کسی نبی کی عزت نہیں کی تھی۔ 45 جب یسوع گلیل پہونچے تو لوگوں نے انہیں خوش آمدید کہا۔ ان لوگوں نے وہ سب کچھ اپنی آنکھو ں سے دیکھاتھا جو یروشلم میں یسوع نے فسح کی تقریب پر ان کے سامنے کئے تھے۔

46 یسوع دوبارہ گلیل شہر قانا روانہ ہوئے۔ قا نا ہی وہ شہر ہے جہاں یسوع نے پا نی کو مئے میں تبدیل کیا تھا۔ با دشاہ کے افسروں میں ایک اہم افسر کفر نحوم کے شہر میں رہتا تھا اس افسر کا ایک لڑ کا بیمار تھا۔ 47 لوگوں کو معلوم ہوا کہ یسوع یہوداہ سے آئے ہیں اور گلیلی میں ہیں اور وہ لوگ شہر قانا میں یسوع کے پاس گئے اور استد عا کی کہ یسوع شہر کفر نحوم کو آئے اور اس لڑکے کا علا ج کرے۔ افسر کا لڑ کا قریب مر چکا تھا۔ 48 یسوع نے اس سے کہا ، “جب تک تم لوگ معجزات اور عجیب وغریب چیزیں نہیں دیکھو گے مجھ پر ایمان نہیں لا ؤگے۔”

49 باد شاہ کے وزیر نے درخواست کی کہ“میرا بچہ مر نے کے قریب ہے اسکی موت سے پہلے چلیں۔”

50 یسوع نے کہا ، “جاؤ تمہا را بچہ زندہ رہیگا!” اور اس شخص کو یسوع کے بات پر ایمان تھا یسوع کے کہنے پر اپنے گھر روانہ ہُوا۔

51 راستے ہی میں اس آدمی کا خادم ملا اس نے کہا ، “تمہا را لڑکا اب صحتیاب ہے۔”

52 تب اس نے خادم سے پوچھا ، “میرا بچہ کس وقت اچھا ہوا۔” خادم نے جواب دیا ، “گذشتہ کل تقریباً ایک بجے اس کا بخا ر کم ہوا۔”

53 اس لڑکے کے باپ (افسر) نے خیال کیا ایک بجے کا وقت وہی وقت تھا جس وقت یسوع نے کہا تھا ،تمہارا لڑکا زندہ رہیگا ، “تب وہ اور اس کے گھر کے تمام لوگ یسوع پر ایمان لا ئے۔

54 یہ دوسرا معجزہ تھا جو یسوع نے یہوداہ سے گلیل آنے کے بعد کیا تھا۔

زبُور 105:16-36

16 خدا نے اُس ملک میں قحط سالی نا زل کیا۔
    اور لوگوں کے پاس کھا نے کے لئے خوراک تک نہ رہی۔
17 لیکن خدا نے ایک شخص کو اُ ن کے آگے بھیجا جس کا نام یوسف تھا۔
    یو سف کو ایک غلام کی مانند بیچاگیا تھا۔
18 اُنہوں نے یوسف کے پا ؤں میں رسّی باندھی۔
    اُنہوں نے اس کی گردن میں ایک لو ہے کا کڑا ڈا ل دیا۔
19 یوسف کوتب تک قیدی بنا ئے رکھا جب تک وہ پیشین گوئی جسے اس نے کی تھی، سچ مُچ پو ری نہ ہو ئیں۔
    اس طرح خداوند کا کلام ثابت کر دیا کہ وہ صحیح تھا۔
20 مصر کے بادشا ہ نے اِس طرح حکم دیا کہ یوسف کو قید سے آزاد کر دیا جا ئے۔
    اُس ملک کے حاکم نے اسیری سے اس کوآزاد کر دیا۔
21 یوسف کوبادشا ہ کے محل کا منتظم بنا دیا تھا۔
    یوسف مملکت کی ہر شئے پر توجہ دینے لگا۔
22 یوسف مختلف حکمرانوں کو ہدایت کر تا تھا۔
    یوسف نے بزرگ لوگوں کو تعلیم دی۔
23 جب اِسرائیل مصر میں آیا۔
    یعقوب حام کے ملک میں رہنے لگا۔
24 یعقوب کا خاندان وسیع ہو گیا۔
    وہ مصر کے لوگوں سے زیادہ طاقتور ہو گئے۔
25 اِس لئے مصر کے لوگ یعقوب کے خاندا ن سے نفرت کر نے لگے۔
    مصر کے لوگ اپنے غلاموں کے خلا ف منصوبے بنا نے لگے۔
26 اِس لئے خدا نے اپنے بندے موسیٰ ،
    اور ہا رون کو نبی منتخب کر کے بھیجا۔
27 خدا نے حا م کی سرزمین میں موسیٰ
    اور ہا رون سے معجزات دکھا ئے۔
28 خدا نے گہری سیاہ تا ریکی بھیجی تھی،
    لیکن مصریوں نے اُن کی ایک نہ سُنی تھی۔
29 اِس لئے خدا نے پا نی کو خون میں بدل دیا۔
    اور اُنکی ساری مچھلیاں مر گئیں۔
30 اور پھر بعد میں مصریوں کا ملک مینڈ کوں سے بھر گیا۔
    یہاں تک کہ مینڈک بادشاہ کے با لا خانوں میں بھر گئے۔
31 خدا نے حکم دیا، مکھّیاں اور پسّو آئے۔
    وہ ہر جگہ پھیل گئے۔
32 خدا نے برسات کو اولوں میں بدل دیا۔
    مصریوں کے مُلک میں ہر جگہ آ گ اور بجلی گر نے لگی۔
33 خدا نے مصریوں کے انگور اور انجیر کے درختوں کو بر باد کر دیا۔
    خدا نے اُس ملک کے ہر پیڑ کو تباہ کر دیا۔
34 خدا نے حکم دیا، اور ٹڈی دل آ گیا۔
    کیڑے آگئے اور اُن کی تعداد انگنت تھی۔
35 ٹڈی دل اور کیڑے اُس ملک کے سبھی پودوں کو کھا گئے۔
    انہوں نے زمین پر جو بھی فصلیں تھی۔ سبھی کو کھا لیا۔
36 پھر خدا نے مصریوں کے سب پہلو ٹھو ں کو ما ر ڈا لا۔
    خدا نے اُ ن کے سب سے بڑے بیٹوں کوما ر ڈا لا۔

امثال 14:26-27

26 جو خدا وند سے ڈر تا ہے وہ ایسا ہے جیسے کہ وہ مستحکم قلعہ میں رہتا ہو۔ یہ اسکی اولاد کے لئے بھی محفوظ جگہ ہو گی۔

27 خدا وند کا خوف زندگی کا جھر نا ہے۔ وہ لوگوں کو موت کے پھندا سے بچا تا ہے۔

Urdu Bible: Easy-to-Read Version (ERV-UR)

2007 by World Bible Translation Center