A A A A A
Bible Book List

عز را 5 Urdu Bible: Easy-to-Read Version (ERV-UR)

اس وقت حّجی نبی اور عدّو کا بیٹا زکریاہ نے اسرائیل کے خدا کے نام پر یہودا ہ اور یروشلم میں یہودیوں سے نبوت کرنی شروع کی۔ اور وہ لوگ ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی۔ سالتی ایل کے بیٹے زربابل اور یوصدق کے بیٹے یشوع نے یروشلم میں ہیکل کا کام شروع کیا۔تمام خدا کے نبی ان کے ساتھ تھے اور کام میں مدد کر رہے تھے۔ اس وقت دریائے فرات کے مغربی علاقہ کا گورنر تتّنی تھا۔ تتّنی ، شتر بوزنی اور ان کے سا تھ کے آدمی زر بابل ، یشوع اور دوسروں کے پاس گئے جو ہیکل بنا رہے تھے۔ تتّنی اور اس کے ساتھ کے لوگوں نے زربابل اور اس کے ساتھ کے لوگوں سے پو چھا ، “تمہیں ہیکل دوبارہ بنانے اور اس ڈھانچہ کو بحال کرنے کی اجازت کس نے دی ؟ ” انہوں نے زربابل سے یہ بھی پو چھا ، “اس عمارت کے لئے کام کرنے وا لوں کے نام کیا ہیں ؟”

لیکن خدا یہودی قائدین پر نظر رکھے ہو ئے تھا مقامی عہدیداروں نے یہودیوں کو عمارت پر کام کرنے سے تب تک نہ رو کا جب تک کہ وہ بادشا ہ دارا تک اطلاع نہ پہنچا سکا اور پھر اس کے بارے میں جب تک انہیں جواب نہ ملا۔

دریائے فرات کے مغربی علاقے کے گورنر تتّنی ، شتر بوزنی اور ان کے ساتھ کے اہم لوگو ں نے بادشاہ دارا کو ایک خط بھیجا۔ یہ اس خط کی نقل ہے :

بادشا ہ دارا کے نام۔

نیک خواہشات:

“اے بادشا ہ دارا ! آپ کو معلوم ہو نا چا ہئے کہ ہم مملکت یہودا ہ میں گئے۔ہم خدا ئے تعالیٰ کی ہیکل میں گئے۔ یہودا ہ کے لوگ ہیکل کو بڑے پتھروں سے بنا رہے ہیں وہ لوگ بڑی لکڑی کے تختے دیواروں میں رکھ رہے ہیں۔ وہ لوگ بڑی ہوشیاری سے کام کر رہے ہیں۔ اور یہودا ہ کے لوگ سخت محنت سے کام کر رہے ہیں وہ بہت تیزی سے بنا رہے ہیں اور بہت جلد ہی یہ ختم ہو جا ئے گا۔

ہم نے ان لوگوں کے قائدین سے کچھ سوالات ان کے کام کے بارے میں کئے جو وہ کر رہے ہیں۔ہم نے ان سے پو چھا ، “تمہیں کس نے خدا کے اس ہیکل کو دوبارہ بنانے کی اور پھر سے کھڑا کر نے کی اجازت دی ؟” 10 ہم نے ان کے ناموں کو بھی پو چھا ہم چاہتے تھے کہ ان کے قائدین کے نام آپ کو لکھیں تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ وہ کو ن ہیں۔

11 یہ وہ جواب ہے جو انہو ں نے دیا ہے :

“ہم آسمان اور زمین کے خدا کے خادم ہیں۔ہم لوگ خدا کے اس ہیکل کو بنا رہے ہیں جو اسرائیل کے عظیم بادشا ہ نے اسکو کئی سا ل پہلے بنا یا تھا۔ 12 لیکن ہمارے باپ دادا نے خدا کو غصّہ دلا یا اس لئے خدا نے ہمارے باپ داد کو نبو کد نضر کے حوا لے کیا جو بابل کا بادشا ہ تھا۔ نبو کد نضر نے خدا کے اس ہیکل کو تباہ کیا اور لوگو ں کو جلاوطنوں کی طرح بابل جانے پر مجبور کیا۔ 13 لیکن جب خورس بابل کا بادشا ہ بنا تو پہلے سال بادشا ہ خورس نے خاص حکم دیا کہ ہیکل کو دوبارہ بنایا جا ئے۔ 14 اور خورس بابل کے ہیکل سے سونے چاندی کی تمام چیزیں لا یا جو پہلے ہیکل سے لوُ ٹ لی گئی تھیں۔ نبو کد نضر نے ان چیزوں کو یروشلم کے ہیکل سے لو ٹا اور انہیں بابل کے بتوں کی ہیکل میں لے آیا تب بادشا ہ خورس نے ان سونے چاندی کی چیزوں کو شیسبضر کو دیا۔ خورس نے شیبضر کو گور نر کے طور پر چُنا۔

15 تب خورس نے شیسبضر سے کہا ، “یہ سونے چاندی کی چیزیں لو اور انہیں واپس یروشلم کے ہیکل میں رکھو۔ خدا کے ہیکل کو دوبارہ اسی جگہ پر بنا ؤ جہاں وہ پہلے تھا۔ ”

16 اس لئے شیسبضر آیا اور یروشلم میں خدا کے ہیکل کی بنیاد رکھی اس دن سے آج تک کام جا ری ہے لیکن ابھی تک ختم نہیں ہوا۔

17 اب اگر بادشا ہ چاہتے ہیں تو برائے مہربانی بادشا ہوں کی ان دستاویزوں کو تلاش کریں۔ یہ تحقیق کرنے کے لئے کہ کیا بادشا ہ خورس نے یروشلم میں ہیکل کو دوبارہ بنانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ پھر بادشا ہ کو اس بارے میں اپنا فیصلہ ہم لوگوں کو بھیجنے دو۔

Urdu Bible: Easy-to-Read Version (ERV-UR)

2007 by World Bible Translation Center

Ezra 5 New International Version (NIV)

Tattenai’s Letter to Darius

Now Haggai the prophet and Zechariah the prophet, a descendant of Iddo, prophesied to the Jews in Judah and Jerusalem in the name of the God of Israel, who was over them. Then Zerubbabel son of Shealtiel and Joshua son of Jozadak set to work to rebuild the house of God in Jerusalem. And the prophets of God were with them, supporting them.

At that time Tattenai, governor of Trans-Euphrates, and Shethar-Bozenai and their associates went to them and asked, “Who authorized you to rebuild this temple and to finish it?” They[a] also asked, “What are the names of those who are constructing this building?” But the eye of their God was watching over the elders of the Jews, and they were not stopped until a report could go to Darius and his written reply be received.

This is a copy of the letter that Tattenai, governor of Trans-Euphrates, and Shethar-Bozenai and their associates, the officials of Trans-Euphrates, sent to King Darius. The report they sent him read as follows:

To King Darius:

Cordial greetings.

The king should know that we went to the district of Judah, to the temple of the great God. The people are building it with large stones and placing the timbers in the walls. The work is being carried on with diligence and is making rapid progress under their direction.

We questioned the elders and asked them, “Who authorized you to rebuild this temple and to finish it?” 10 We also asked them their names, so that we could write down the names of their leaders for your information.

11 This is the answer they gave us:

“We are the servants of the God of heaven and earth, and we are rebuilding the temple that was built many years ago, one that a great king of Israel built and finished. 12 But because our ancestors angered the God of heaven, he gave them into the hands of Nebuchadnezzar the Chaldean, king of Babylon, who destroyed this temple and deported the people to Babylon.

13 “However, in the first year of Cyrus king of Babylon, King Cyrus issued a decree to rebuild this house of God. 14 He even removed from the temple[b] of Babylon the gold and silver articles of the house of God, which Nebuchadnezzar had taken from the temple in Jerusalem and brought to the temple[c] in Babylon. Then King Cyrus gave them to a man named Sheshbazzar, whom he had appointed governor, 15 and he told him, ‘Take these articles and go and deposit them in the temple in Jerusalem. And rebuild the house of God on its site.’

16 “So this Sheshbazzar came and laid the foundations of the house of God in Jerusalem. From that day to the present it has been under construction but is not yet finished.”

17 Now if it pleases the king, let a search be made in the royal archives of Babylon to see if King Cyrus did in fact issue a decree to rebuild this house of God in Jerusalem. Then let the king send us his decision in this matter.

Footnotes:

  1. Ezra 5:4 See Septuagint; Aramaic We.
  2. Ezra 5:14 Or palace
  3. Ezra 5:14 Or palace
New International Version (NIV)

Holy Bible, New International Version®, NIV® Copyright ©1973, 1978, 1984, 2011 by Biblica, Inc.® Used by permission. All rights reserved worldwide.

Viewing of
Cross references
Footnotes