A A A A A
Bible Book List

مرقس 5 Urdu Bible: Easy-to-Read Version (ERV-UR)

بدروح سے متاثر آدمی کو نجات

یسوع اور اس کے شاگرد جھیل کے پار گراسینیوں کے ملک میں گئے۔ یسوع جب کشتی سے باہر آئے تو دیکھا کہ ایک آدمی قبروں سے نکل کر اس کے پاس آیا اس پر بد روح کے اثرات تھے۔ وہ قبروں میں رہتا تھا اس کو باندھ کر رکھنا کسی کے لئے ممکن نہ تھا اس کو زنجیروں میں جکڑ دینا بھی کوئی فائدہ مند ثابت نہ ہوا۔ لوگوں نے کئی مرتبہ اس کے ہاتھ پیر باندھنے کیلئے زنجیروں کا استعمال کیا۔ لیکن وہ ان کو اکھا ڑ پھینک دیا۔کسی میں اتنی قوّت نہیں تھی کہ اس کو قابو میں کرے۔ وہ رات دن قبرستان میں قبروں کے اطراف اور پہاڑوں پر چلتا پھرتا تھا اور چیختے ہوئے اپنے آپ کو پتھروں سے کچل دیتا تھا۔

یسوع اس سے بہت دور کے فاصلے پر تھے اس شخص نے اُسے دیکھا اور دوڑ تے ہوئے جاکر اس کے سامنے دراز ہوا آداب بجا لایا اور سجدہ کیا 7-8 یسوع نے اس سے کہا، “اے بد روح اس کے اندر سے تو باہر آجا”اس شخص نے اونچی آواز میں چلّا تے ہوئے کہا، “اور عرض کیا اے یسوع سب سے عظیم خدا کا بیٹا مجھ سے تو کیا چاہتا ہے ؟ خداوند کی قسم کھا کر کہتا ہوں مجھے تکلیف نہ دے۔”

پھر یسوع نے اس سے پوچھا، “تیرا نام کیا ہے؟”اس نے جواب دیا “میرا نام لشکر [a] ہے” کیوں کہ مجھ میں کئی بد روحیں ہیں۔ 10 اس آدمی کے اندر کی بدروحیں یسوع سے بار بار التجا کرنے لگیں کہ مجھے اس علاقے سے باہر نکا لا نہ جا ئے۔

11 وہاں سے قریب پہاڑی پر سؤروں کا ایک غول چر رہا تھا۔ 12 بد روحوں نے یہ کہتے ہوئے یسوع سے عرض کیا ، “ہم سب کو سؤروں کے ساتھ بھیج دے۔ اور ہمیں ان میں داخل ہونے کی اجازت دے ۔”

13 جونہی ان کو یسوع سے اجا زت ملی تو وہ اس آدمی میں سے نکل کر سؤروں میں گھس گئی۔ تب تمام سؤر پہاڑ سے اتر کر جھیل میں گر کر ڈوب گئے۔ اس غول میں تقریباً دو ہزار سؤر تھے۔

14 سؤر کی دیکھ بھال کرنے والے لوگ شہر میں آئے اور باغات میں گئے اور لوگوں کو واقف کرایا۔ تب لوگ جو واقعہ پیش آیا اس کو دیکھنے کے لئے آئے۔

15 وہ یسوع کے پاس آئے انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی جو مختلف بد روحوں سے متاثر تھا اور کپڑے پہنے ہوئے وہاں بیٹھا ہے۔ وہ آدمی ہوش و حواس میں تھا وہ لوگ اس کو دیکھ کر ڈر گئے۔ 16 بعض لوگ وہاں موجود تھے اور یسوع نے جو کیا اس کو دیکھا ان لو گوں نے دوسرے لوگوں سے کہا کہ اس شخص کو جس کے اندر بد روحیں ہیں اُس کو کیا پیش آیا۔اور انہوں نے سؤروں کے بارے میں بھی کہا۔ 17 تب لوگوں نے یسوع کو اپنا ملک چھوڑ کر جا نے کی گزارش کی۔

18 جب یسوع وہاں سے جانے کے لئے کشتی میں سوار ہو نے کی تیّاری کر رہے تھے تو اس وقت وہ آدمی جو بد روحوں سے نجات پایا تھا۔یسوع سے درخواست کی کہ میں بھی آپ کے ساتھ چلونگا۔ 19 لیکن یسوع نے اس کو اپنے ساتھ لے جا نے سے انکار کردیا اور کہا ، “تو اپنے گھر جا اور اپنے دوستوں کے پاس جا۔ اور خدا وند نے تیرے ساتھ جو بھلائی کی ہے اور اس نے تیرے ساتھ جو مہربانی کا سلوک کیا ہے ان کو بتا۔”

20 اس وقت وہ وہاں سے چلا گیا اور یسوع نے اس کے ساتھ جو احسان کیا تھا اسے اس نے دکپُلس [b] کے لوگوں کو معلوم کرا دیا۔ تو وہ لوگ نہایت متعجب ہوئے۔

مری ہوئی لڑکی کوزندگی دینااور بیمار عورت کو شفا یاب کرنا

21 یسوع دوبارہ کشتی میں جھیل کے اس پارکنا رے پہنچے جھیل کے کنارے بہت سارے لوگ ان کے اطراف جمع ہو گئے۔ 22 یہودی عبادت خانہ کا ایک عہدیدار وہاں آیا۔اس کا نام یائر تھا اس نے یسوع کو دیکھااور اس کے سامنے گر کر سجدہ کیا اور بہت التجا کی۔ 23 “میری چھو ٹی بیٹی مر رہی ہے برائے مہر بانی آپ آئیں اور اپنے ہاتھوں سے اس کو چھو ئیں تب وہ صحت یاب ہوجائیگی اور پھر سے جی سکے گی۔” 24 یسوع عہدیدار کے ساتھ گئے۔کئی لوگ یسوع کے پیچھے ہو لئے اور وہ انکے اطراف دھّکا پیل کر رہے تھے۔

25 ان لوگوں میں ایک عورت تھی جسے بارہ سال سے خون جاری تھا۔ 26 وہ بہت تکلیف میں مبتلا تھی۔ اس کو تکلیف سے نجات دلانے کے لئے بہت سے طبیبوں نے نہایت کوشش کی اس کے پاس جو روپیہ پیسہ تھا وہ سب خرچ ہو گیا۔ اس کے با وجود وہ صحت نہ پائی۔ اس کا مرض بد تر ہو رہا تھا۔

27 اس کو یسوع کے بارے میں معلوم ہوا اس لئے وہ لوگوں کی بھیڑ میں پیچھے سے آکر ان کے چغے کو چھوئی۔

28 اس خاتون نے سوچا کہ “ان کا لباس چھونا کافی ہے میں صحت مند ہو جاؤنگی۔” 29 چھو تے ہی اس کا جاری خون رک گیا اور اپنی صحت یابی کا اسے احساس ہوا۔

30 یسوع نے محسوس کیا کہ اس میں سے کچھ قوّت چلی گئی ہے اور وہ وہیں پر ٹھہر کر پیچھے مڑکر دیکھا اور پوچھا ، “میرے لباس کو کس نے چھوا ہے ؟”

31 شاگردوں نے کہا، “آپ دیکھ رہے ہیں کہ مجمع آپ پر ہر طرف سے گر پڑ رہے ہیں ایسے میں آپ پوچھ رہے ہو کہ مجھے کون چھوا ؟” 32 اس نے چاروں طرف نگاہ کی تا کہ جس نے یہ کام کیا تھا اسے دیکھے۔ 33 عورت کو معلوم تھا کہ اس کو شفا ء ہوگئی ہے اس وجہ سے وہ عورت کھڑی ہوکر ڈرتی ہوئی یسوع کے سامنے آئی اور سجدہ میں گر گئی اور سارا حال سچ سچ بتادی۔ 34 یسوع نے اس سے کہا ، “بیٹی تیرے عقیدہ ہی کی وجہ سے تجھے شفا ہوئی ہے اطمنان و تسلّی سے جا۔ اس کے بعد تجھے اس بیماری کی کوئی تکلیف نہ ہوگی۔”

35 یسوع وہاں پر باتیں کرہی رہے تھے کہ اسی اثناء میں چند لوگ یہودی عبادت خانہ کے عہدیدار یائر کے گھر سے آکر اس سے کہا ، “تیری بیٹی مر گئی ہے۔ اب ناصح کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں ہے۔”

36 لیکن یسوع نے ان کی با توں پر توجہ دیئے بغیر یہودی عبادت خانہ کے عہدیدار سے کہا ، “تو گھبرا مت صرف یقین و عقیدہ رکھ۔”

37 یسوع اپنے ساتھ پطرس ، یعقوب ،اور یعقوب کے بھائی یوحنّا کو آنے کی اجازت دی۔ 38 یسوع اور یہ شاگرد یہودی عبادتخا نہ کے عہدیدار یائر کے گھر گئے۔ یسوع نے دیکھا کہ وہاں بہت سارے لوگ زارو قطار رورہے ہیں اور وہاں پر بہت زیادہ شور تھا۔ 39 یسوع گھر میں داخل ہوئے اور اُن لوگوں سے کہا ، “تم سب کیوں رو رہے ہو ؟ اتنا شور کیو ں کر رہے ہو ؟ یہ لڑکی مری نہیں بلکہ سوئی ہوئی ہے۔” 40 لیکن ان سب لو گوں نے یسوع پر ہنسنا شروع کیا۔

یسوع نے ان تمام لوگوں کو گھر کے باہر بھیجا اور اس لڑکی کے ماں باپ کو لیکر اپنے شاگردوں کے ساتھ کمرے کے اندر گئے۔ 41 یسوع نے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑکر اس سے کہا ، “تلیتا قومی” اس کے معنٰی “اے چھوٹی لڑکی اٹھ جا میں تجھ سے کہہ رہا ہوں۔” 42 فوراً لڑکی اٹھی اور چلنا پھر نا شروع کردی۔ اس کی عمر تقریباً بارہ سال تھی اس لڑکی کے والدین اور شاگرد بہت حیرت زدہ ہوئے۔ 43 یسوع نے اس وا قعہ کے بارے میں کسی سے بیان کر نے کے لئے لڑکی کے والدین کو سختی سے منع کیا اور اس لڑ کی کو کھانا کھلانے کے لئے کہا۔

Footnotes:

  1. مرقس 5:9 لشکر لشکر کے معنیٰ ۵۰۰۰ فوجوں کا فوجی دستہ
  2. مرقس 5:20 دکپُلس دکُپلس کے معنی دس گاؤں
Urdu Bible: Easy-to-Read Version (ERV-UR)

2007 by World Bible Translation Center

Mark 5 New International Version (NIV)

Jesus Restores a Demon-Possessed Man

They went across the lake to the region of the Gerasenes.[a] When Jesus got out of the boat, a man with an impure spirit came from the tombs to meet him. This man lived in the tombs, and no one could bind him anymore, not even with a chain. For he had often been chained hand and foot, but he tore the chains apart and broke the irons on his feet. No one was strong enough to subdue him. Night and day among the tombs and in the hills he would cry out and cut himself with stones.

When he saw Jesus from a distance, he ran and fell on his knees in front of him. He shouted at the top of his voice, “What do you want with me, Jesus, Son of the Most High God? In God’s name don’t torture me!” For Jesus had said to him, “Come out of this man, you impure spirit!”

Then Jesus asked him, “What is your name?”

“My name is Legion,” he replied, “for we are many.” 10 And he begged Jesus again and again not to send them out of the area.

11 A large herd of pigs was feeding on the nearby hillside. 12 The demons begged Jesus, “Send us among the pigs; allow us to go into them.” 13 He gave them permission, and the impure spirits came out and went into the pigs. The herd, about two thousand in number, rushed down the steep bank into the lake and were drowned.

14 Those tending the pigs ran off and reported this in the town and countryside, and the people went out to see what had happened. 15 When they came to Jesus, they saw the man who had been possessed by the legion of demons, sitting there, dressed and in his right mind; and they were afraid. 16 Those who had seen it told the people what had happened to the demon-possessed man—and told about the pigs as well. 17 Then the people began to plead with Jesus to leave their region.

18 As Jesus was getting into the boat, the man who had been demon-possessed begged to go with him. 19 Jesus did not let him, but said, “Go home to your own people and tell them how much the Lord has done for you, and how he has had mercy on you.” 20 So the man went away and began to tell in the Decapolis[b] how much Jesus had done for him. And all the people were amazed.

Jesus Raises a Dead Girl and Heals a Sick Woman

21 When Jesus had again crossed over by boat to the other side of the lake, a large crowd gathered around him while he was by the lake. 22 Then one of the synagogue leaders, named Jairus, came, and when he saw Jesus, he fell at his feet. 23 He pleaded earnestly with him, “My little daughter is dying. Please come and put your hands on her so that she will be healed and live.” 24 So Jesus went with him.

A large crowd followed and pressed around him. 25 And a woman was there who had been subject to bleeding for twelve years. 26 She had suffered a great deal under the care of many doctors and had spent all she had, yet instead of getting better she grew worse. 27 When she heard about Jesus, she came up behind him in the crowd and touched his cloak, 28 because she thought, “If I just touch his clothes, I will be healed.” 29 Immediately her bleeding stopped and she felt in her body that she was freed from her suffering.

30 At once Jesus realized that power had gone out from him. He turned around in the crowd and asked, “Who touched my clothes?”

31 “You see the people crowding against you,” his disciples answered, “and yet you can ask, ‘Who touched me?’

32 But Jesus kept looking around to see who had done it. 33 Then the woman, knowing what had happened to her, came and fell at his feet and, trembling with fear, told him the whole truth. 34 He said to her, “Daughter, your faith has healed you. Go in peace and be freed from your suffering.”

35 While Jesus was still speaking, some people came from the house of Jairus, the synagogue leader. “Your daughter is dead,” they said. “Why bother the teacher anymore?”

36 Overhearing[c] what they said, Jesus told him, “Don’t be afraid; just believe.”

37 He did not let anyone follow him except Peter, James and John the brother of James. 38 When they came to the home of the synagogue leader, Jesus saw a commotion, with people crying and wailing loudly. 39 He went in and said to them, “Why all this commotion and wailing? The child is not dead but asleep.” 40 But they laughed at him.

After he put them all out, he took the child’s father and mother and the disciples who were with him, and went in where the child was. 41 He took her by the hand and said to her, “Talitha koum!” (which means “Little girl, I say to you, get up!”). 42 Immediately the girl stood up and began to walk around (she was twelve years old). At this they were completely astonished. 43 He gave strict orders not to let anyone know about this, and told them to give her something to eat.

Footnotes:

  1. Mark 5:1 Some manuscripts Gadarenes; other manuscripts Gergesenes
  2. Mark 5:20 That is, the Ten Cities
  3. Mark 5:36 Or Ignoring
New International Version (NIV)

Holy Bible, New International Version®, NIV® Copyright ©1973, 1978, 1984, 2011 by Biblica, Inc.® Used by permission. All rights reserved worldwide.

مرقس 5 Urdu Bible: Easy-to-Read Version (ERV-UR)

بدروح سے متاثر آدمی کو نجات

یسوع اور اس کے شاگرد جھیل کے پار گراسینیوں کے ملک میں گئے۔ یسوع جب کشتی سے باہر آئے تو دیکھا کہ ایک آدمی قبروں سے نکل کر اس کے پاس آیا اس پر بد روح کے اثرات تھے۔ وہ قبروں میں رہتا تھا اس کو باندھ کر رکھنا کسی کے لئے ممکن نہ تھا اس کو زنجیروں میں جکڑ دینا بھی کوئی فائدہ مند ثابت نہ ہوا۔ لوگوں نے کئی مرتبہ اس کے ہاتھ پیر باندھنے کیلئے زنجیروں کا استعمال کیا۔ لیکن وہ ان کو اکھا ڑ پھینک دیا۔کسی میں اتنی قوّت نہیں تھی کہ اس کو قابو میں کرے۔ وہ رات دن قبرستان میں قبروں کے اطراف اور پہاڑوں پر چلتا پھرتا تھا اور چیختے ہوئے اپنے آپ کو پتھروں سے کچل دیتا تھا۔

یسوع اس سے بہت دور کے فاصلے پر تھے اس شخص نے اُسے دیکھا اور دوڑ تے ہوئے جاکر اس کے سامنے دراز ہوا آداب بجا لایا اور سجدہ کیا 7-8 یسوع نے اس سے کہا، “اے بد روح اس کے اندر سے تو باہر آجا”اس شخص نے اونچی آواز میں چلّا تے ہوئے کہا، “اور عرض کیا اے یسوع سب سے عظیم خدا کا بیٹا مجھ سے تو کیا چاہتا ہے ؟ خداوند کی قسم کھا کر کہتا ہوں مجھے تکلیف نہ دے۔”

پھر یسوع نے اس سے پوچھا، “تیرا نام کیا ہے؟”اس نے جواب دیا “میرا نام لشکر [a] ہے” کیوں کہ مجھ میں کئی بد روحیں ہیں۔ 10 اس آدمی کے اندر کی بدروحیں یسوع سے بار بار التجا کرنے لگیں کہ مجھے اس علاقے سے باہر نکا لا نہ جا ئے۔

11 وہاں سے قریب پہاڑی پر سؤروں کا ایک غول چر رہا تھا۔ 12 بد روحوں نے یہ کہتے ہوئے یسوع سے عرض کیا ، “ہم سب کو سؤروں کے ساتھ بھیج دے۔ اور ہمیں ان میں داخل ہونے کی اجازت دے ۔”

13 جونہی ان کو یسوع سے اجا زت ملی تو وہ اس آدمی میں سے نکل کر سؤروں میں گھس گئی۔ تب تمام سؤر پہاڑ سے اتر کر جھیل میں گر کر ڈوب گئے۔ اس غول میں تقریباً دو ہزار سؤر تھے۔

14 سؤر کی دیکھ بھال کرنے والے لوگ شہر میں آئے اور باغات میں گئے اور لوگوں کو واقف کرایا۔ تب لوگ جو واقعہ پیش آیا اس کو دیکھنے کے لئے آئے۔

15 وہ یسوع کے پاس آئے انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی جو مختلف بد روحوں سے متاثر تھا اور کپڑے پہنے ہوئے وہاں بیٹھا ہے۔ وہ آدمی ہوش و حواس میں تھا وہ لوگ اس کو دیکھ کر ڈر گئے۔ 16 بعض لوگ وہاں موجود تھے اور یسوع نے جو کیا اس کو دیکھا ان لو گوں نے دوسرے لوگوں سے کہا کہ اس شخص کو جس کے اندر بد روحیں ہیں اُس کو کیا پیش آیا۔اور انہوں نے سؤروں کے بارے میں بھی کہا۔ 17 تب لوگوں نے یسوع کو اپنا ملک چھوڑ کر جا نے کی گزارش کی۔

18 جب یسوع وہاں سے جانے کے لئے کشتی میں سوار ہو نے کی تیّاری کر رہے تھے تو اس وقت وہ آدمی جو بد روحوں سے نجات پایا تھا۔یسوع سے درخواست کی کہ میں بھی آپ کے ساتھ چلونگا۔ 19 لیکن یسوع نے اس کو اپنے ساتھ لے جا نے سے انکار کردیا اور کہا ، “تو اپنے گھر جا اور اپنے دوستوں کے پاس جا۔ اور خدا وند نے تیرے ساتھ جو بھلائی کی ہے اور اس نے تیرے ساتھ جو مہربانی کا سلوک کیا ہے ان کو بتا۔”

20 اس وقت وہ وہاں سے چلا گیا اور یسوع نے اس کے ساتھ جو احسان کیا تھا اسے اس نے دکپُلس [b] کے لوگوں کو معلوم کرا دیا۔ تو وہ لوگ نہایت متعجب ہوئے۔

مری ہوئی لڑکی کوزندگی دینااور بیمار عورت کو شفا یاب کرنا

21 یسوع دوبارہ کشتی میں جھیل کے اس پارکنا رے پہنچے جھیل کے کنارے بہت سارے لوگ ان کے اطراف جمع ہو گئے۔ 22 یہودی عبادت خانہ کا ایک عہدیدار وہاں آیا۔اس کا نام یائر تھا اس نے یسوع کو دیکھااور اس کے سامنے گر کر سجدہ کیا اور بہت التجا کی۔ 23 “میری چھو ٹی بیٹی مر رہی ہے برائے مہر بانی آپ آئیں اور اپنے ہاتھوں سے اس کو چھو ئیں تب وہ صحت یاب ہوجائیگی اور پھر سے جی سکے گی۔” 24 یسوع عہدیدار کے ساتھ گئے۔کئی لوگ یسوع کے پیچھے ہو لئے اور وہ انکے اطراف دھّکا پیل کر رہے تھے۔

25 ان لوگوں میں ایک عورت تھی جسے بارہ سال سے خون جاری تھا۔ 26 وہ بہت تکلیف میں مبتلا تھی۔ اس کو تکلیف سے نجات دلانے کے لئے بہت سے طبیبوں نے نہایت کوشش کی اس کے پاس جو روپیہ پیسہ تھا وہ سب خرچ ہو گیا۔ اس کے با وجود وہ صحت نہ پائی۔ اس کا مرض بد تر ہو رہا تھا۔

27 اس کو یسوع کے بارے میں معلوم ہوا اس لئے وہ لوگوں کی بھیڑ میں پیچھے سے آکر ان کے چغے کو چھوئی۔

28 اس خاتون نے سوچا کہ “ان کا لباس چھونا کافی ہے میں صحت مند ہو جاؤنگی۔” 29 چھو تے ہی اس کا جاری خون رک گیا اور اپنی صحت یابی کا اسے احساس ہوا۔

30 یسوع نے محسوس کیا کہ اس میں سے کچھ قوّت چلی گئی ہے اور وہ وہیں پر ٹھہر کر پیچھے مڑکر دیکھا اور پوچھا ، “میرے لباس کو کس نے چھوا ہے ؟”

31 شاگردوں نے کہا، “آپ دیکھ رہے ہیں کہ مجمع آپ پر ہر طرف سے گر پڑ رہے ہیں ایسے میں آپ پوچھ رہے ہو کہ مجھے کون چھوا ؟” 32 اس نے چاروں طرف نگاہ کی تا کہ جس نے یہ کام کیا تھا اسے دیکھے۔ 33 عورت کو معلوم تھا کہ اس کو شفا ء ہوگئی ہے اس وجہ سے وہ عورت کھڑی ہوکر ڈرتی ہوئی یسوع کے سامنے آئی اور سجدہ میں گر گئی اور سارا حال سچ سچ بتادی۔ 34 یسوع نے اس سے کہا ، “بیٹی تیرے عقیدہ ہی کی وجہ سے تجھے شفا ہوئی ہے اطمنان و تسلّی سے جا۔ اس کے بعد تجھے اس بیماری کی کوئی تکلیف نہ ہوگی۔”

35 یسوع وہاں پر باتیں کرہی رہے تھے کہ اسی اثناء میں چند لوگ یہودی عبادت خانہ کے عہدیدار یائر کے گھر سے آکر اس سے کہا ، “تیری بیٹی مر گئی ہے۔ اب ناصح کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں ہے۔”

36 لیکن یسوع نے ان کی با توں پر توجہ دیئے بغیر یہودی عبادت خانہ کے عہدیدار سے کہا ، “تو گھبرا مت صرف یقین و عقیدہ رکھ۔”

37 یسوع اپنے ساتھ پطرس ، یعقوب ،اور یعقوب کے بھائی یوحنّا کو آنے کی اجازت دی۔ 38 یسوع اور یہ شاگرد یہودی عبادتخا نہ کے عہدیدار یائر کے گھر گئے۔ یسوع نے دیکھا کہ وہاں بہت سارے لوگ زارو قطار رورہے ہیں اور وہاں پر بہت زیادہ شور تھا۔ 39 یسوع گھر میں داخل ہوئے اور اُن لوگوں سے کہا ، “تم سب کیوں رو رہے ہو ؟ اتنا شور کیو ں کر رہے ہو ؟ یہ لڑکی مری نہیں بلکہ سوئی ہوئی ہے۔” 40 لیکن ان سب لو گوں نے یسوع پر ہنسنا شروع کیا۔

یسوع نے ان تمام لوگوں کو گھر کے باہر بھیجا اور اس لڑکی کے ماں باپ کو لیکر اپنے شاگردوں کے ساتھ کمرے کے اندر گئے۔ 41 یسوع نے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑکر اس سے کہا ، “تلیتا قومی” اس کے معنٰی “اے چھوٹی لڑکی اٹھ جا میں تجھ سے کہہ رہا ہوں۔” 42 فوراً لڑکی اٹھی اور چلنا پھر نا شروع کردی۔ اس کی عمر تقریباً بارہ سال تھی اس لڑکی کے والدین اور شاگرد بہت حیرت زدہ ہوئے۔ 43 یسوع نے اس وا قعہ کے بارے میں کسی سے بیان کر نے کے لئے لڑکی کے والدین کو سختی سے منع کیا اور اس لڑ کی کو کھانا کھلانے کے لئے کہا۔

Footnotes:

  1. مرقس 5:9 لشکر لشکر کے معنیٰ ۵۰۰۰ فوجوں کا فوجی دستہ
  2. مرقس 5:20 دکپُلس دکُپلس کے معنی دس گاؤں
Urdu Bible: Easy-to-Read Version (ERV-UR)

2007 by World Bible Translation Center

Mark 5 New International Version (NIV)

Jesus Restores a Demon-Possessed Man

They went across the lake to the region of the Gerasenes.[a] When Jesus got out of the boat, a man with an impure spirit came from the tombs to meet him. This man lived in the tombs, and no one could bind him anymore, not even with a chain. For he had often been chained hand and foot, but he tore the chains apart and broke the irons on his feet. No one was strong enough to subdue him. Night and day among the tombs and in the hills he would cry out and cut himself with stones.

When he saw Jesus from a distance, he ran and fell on his knees in front of him. He shouted at the top of his voice, “What do you want with me, Jesus, Son of the Most High God? In God’s name don’t torture me!” For Jesus had said to him, “Come out of this man, you impure spirit!”

Then Jesus asked him, “What is your name?”

“My name is Legion,” he replied, “for we are many.” 10 And he begged Jesus again and again not to send them out of the area.

11 A large herd of pigs was feeding on the nearby hillside. 12 The demons begged Jesus, “Send us among the pigs; allow us to go into them.” 13 He gave them permission, and the impure spirits came out and went into the pigs. The herd, about two thousand in number, rushed down the steep bank into the lake and were drowned.

14 Those tending the pigs ran off and reported this in the town and countryside, and the people went out to see what had happened. 15 When they came to Jesus, they saw the man who had been possessed by the legion of demons, sitting there, dressed and in his right mind; and they were afraid. 16 Those who had seen it told the people what had happened to the demon-possessed man—and told about the pigs as well. 17 Then the people began to plead with Jesus to leave their region.

18 As Jesus was getting into the boat, the man who had been demon-possessed begged to go with him. 19 Jesus did not let him, but said, “Go home to your own people and tell them how much the Lord has done for you, and how he has had mercy on you.” 20 So the man went away and began to tell in the Decapolis[b] how much Jesus had done for him. And all the people were amazed.

Jesus Raises a Dead Girl and Heals a Sick Woman

21 When Jesus had again crossed over by boat to the other side of the lake, a large crowd gathered around him while he was by the lake. 22 Then one of the synagogue leaders, named Jairus, came, and when he saw Jesus, he fell at his feet. 23 He pleaded earnestly with him, “My little daughter is dying. Please come and put your hands on her so that she will be healed and live.” 24 So Jesus went with him.

A large crowd followed and pressed around him. 25 And a woman was there who had been subject to bleeding for twelve years. 26 She had suffered a great deal under the care of many doctors and had spent all she had, yet instead of getting better she grew worse. 27 When she heard about Jesus, she came up behind him in the crowd and touched his cloak, 28 because she thought, “If I just touch his clothes, I will be healed.” 29 Immediately her bleeding stopped and she felt in her body that she was freed from her suffering.

30 At once Jesus realized that power had gone out from him. He turned around in the crowd and asked, “Who touched my clothes?”

31 “You see the people crowding against you,” his disciples answered, “and yet you can ask, ‘Who touched me?’

32 But Jesus kept looking around to see who had done it. 33 Then the woman, knowing what had happened to her, came and fell at his feet and, trembling with fear, told him the whole truth. 34 He said to her, “Daughter, your faith has healed you. Go in peace and be freed from your suffering.”

35 While Jesus was still speaking, some people came from the house of Jairus, the synagogue leader. “Your daughter is dead,” they said. “Why bother the teacher anymore?”

36 Overhearing[c] what they said, Jesus told him, “Don’t be afraid; just believe.”

37 He did not let anyone follow him except Peter, James and John the brother of James. 38 When they came to the home of the synagogue leader, Jesus saw a commotion, with people crying and wailing loudly. 39 He went in and said to them, “Why all this commotion and wailing? The child is not dead but asleep.” 40 But they laughed at him.

After he put them all out, he took the child’s father and mother and the disciples who were with him, and went in where the child was. 41 He took her by the hand and said to her, “Talitha koum!” (which means “Little girl, I say to you, get up!”). 42 Immediately the girl stood up and began to walk around (she was twelve years old). At this they were completely astonished. 43 He gave strict orders not to let anyone know about this, and told them to give her something to eat.

Footnotes:

  1. Mark 5:1 Some manuscripts Gadarenes; other manuscripts Gergesenes
  2. Mark 5:20 That is, the Ten Cities
  3. Mark 5:36 Or Ignoring
New International Version (NIV)

Holy Bible, New International Version®, NIV® Copyright ©1973, 1978, 1984, 2011 by Biblica, Inc.® Used by permission. All rights reserved worldwide.

Viewing of
Cross references
Footnotes