A A A A A
Bible Book List

لوقا 2 Urdu Bible: Easy-to-Read Version (ERV-UR)

یسوع کی پیدائش

اس زمانے میں قیصر اوگوستس نے رومہ کے اقتدار کی حدود میں آنے والے تمام شہروں میں مردم شماری کروانے کا حکم دیا۔ یہ پہلی مردم شماری تھی جبکہ کورنیس ملک سوریہ کا گورنر تھا۔ سب لوگ اپنے اپنے ناموں کو اندراج کروانے کیلئے اپنے اپنے گاؤں کو جا نا شروع کئے۔

اس وجہ سے یوسف بھی گلیل کے ناصرت نام کے گاؤں سے نکل کر یہودا ہ کے بیت اللحم گاؤں کو گئے۔ بیت اللحم داؤد کا شہر کہلاتا ہے یوسف چونکہ داؤد کے خا ندان کا تھا اسی لئے داؤد کے گاؤں بیت اللحم کو گیا۔ وہ اپنے ساتھ مریم کو بھی اندراج کے لئے لے گیا۔ جبکہ اس سے اس کی سگائی ہو چکی تھی وہ حاملہ بھی تھی۔ وہ جب بیت اللحم میں تھے تو مریم کے وضع حمل کا وقت آگیا۔ اس کا پہلوٹھا بچہ پیدا ہوا انہیں سرا ئے میں کوئی جگہ نہ ملی۔ اسی لئے مریم نے بچہ کو کپڑے میں لپیٹ کر جانوروں کے باندھنے کی وہ جگہ جہاں جانور گھاس وغیرہ کھاتے ہیں بچے کو اس میں سلا دیا۔

چرواہوں کو پیغا م کا ملنا

اس رات اسی علاقے میں چند چرواہے کھیتوں سے قریب اپنے ریوڑ کی نگرانی کر رہے تھے۔ خداوند کا ایک فرشتہ چرواہوں کے سامنے موجود تھا انکے اطراف خداوند کا جلال چمک رہاتھا۔چرواہے بہت زیادہ گھبرا گئے۔ 10 فرشتہ نے ان سے کہا ، “خوفزدہ مت ہو میں تمہارے لئے خوش خبری لا رہاہوں جوتم سب لوگوں کے لئے بڑی خو شیاں لا ئے گی۔ 11 آج کے دن تمہا رے لئے داؤد کے گاؤں میں ایک نجات دہندہ پیدا ہوا ہے یہ مسیح ہی خداوند ہے۔ 12 کپڑے میں لپیٹا ہوا ایک بچہ چرنی میں سویا ہوا تم دیکھوگے تم کو پہچا ننے کیلئے یہی نشا نی ہو گی۔”

13 اچانک آسمان سے فرشتوں کی بہت بڑی تعداد آئی اور پہلے والے فرشتہ کے ساتھ سب شامل ہو گئے۔ سب فرشتے خدا کی حمدوثنا کہتے تھے۔

14 “عالمِ بالا میں خدا کی تمجید ہو
    اور زمین پر ان آد میوں میں جن سے وہ راضی ہے صُلح۔”

15 فرشتہ چرواہوں کے پاس آسمان پر لوٹے تو چرواہوں نے ایک دوسرے سے کہا ، “ہم اسی وقت بیت اللحم جائیں گے اور خداوند نے ہمیں جس واقعہ کو معلوم کرایا ہے اس کو دیکھیں گے۔”

16 پس انہوں نے جلدی جاکر مریم اور یوسف کو دیکھا اور چرنی میں بچے کو دیکھا۔ 17 جب چرواہوں نے بچہ کو دیکھا اس کے بارے میں فرشتوں نے جو کچھ معلوم کروایا تھا بچے کے متعلق اس کو بیان کیا۔ 18 وہ سب چرواہوں نے ان سے جو کچھ کہا اس کو سن کر وہ حیرت زدہ ہوئے۔ 19 مریم نے ان واقعات کو اپنے دل ہی میں رکھا اور انکے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ 20 چرواہوں نے جن واقعات کو سنا اور دیکھا تھا اس کے لئے وہ خدا کی تعریف اور شکر کر تے ہوئے اپنی جگہ چلے گئے جہاں انکی بکریاں تھیں۔اور یہ سب کچھ ویسا ہی ہوا تھا جیسا کہ فرشتہ نے کہا تھا۔

21 جب بچہ آٹھ دن کا ہوا تو اسکا ختنہ کیا گیا۔پھر اسکا نام “یسوع” رکھا گیا۔مریم کا حاملہ ہونے سے پہلے فرشتے نے بھی اسکا یہی نام رکھنے کے لئے کہا تھا۔

ہیکل میں یسوع کا موجود ہونا

22 پاکی کے بارے میں موسٰی کی شریعت میں دی گئی تعلیم کو مریم اور یوسف کے لئے پورا کرنے کا وقت آیا۔یسوع کو خدا وند کی نذر کرنے کے لئے یوسف اور مریم دونوں اسکو یروشلم لے آئے۔ 23 کیوں کہ خدا کے قانون میں لکھا ہے کہ “ہر خاندان میں پہلوٹھا لڑکا ہو تو اسکو خدا وند کے لئے نذرانہ کے طور پر پیش کرنا چاہئے۔ [a] 24 خدا وند کا قانون یہ بھی کہتا ہے کہ “دو کبوتروں یا دو فاختاؤں کو بطور قربانی پیش کرنا چاہئے۔” [b]

اس وجہ سے یوسف اور مریم دونوں یروشلم کو گئے۔

شمعون کا یسوع کو دیکھنا

25 شمعون نام کا ایک آدمی یروشلم میں رہتا تھا وہ بہت ہی اچھا او ر مذہبی آدمی تھا شمعون اس بات کا منتظر تھا کہ کب خدا اسرائیل کی مدد کریگا۔اُس میں روح القدُس تھا۔ 26 روح ا لقدس نے شمعون سے کہا ، “خداوند کی جانب سے بھیجے جانے والے مسیح کو بغیر دیکھے تو نہیں مریگا۔ 27 شمعون روح القدس کی رہنمائی سے ہیکل کو آیا تاکہ یہودی شریعت کی ضرورتوں کو پورا کرے مریم اور یوسف دونوں ہیکل کو گئے اور وہ بچّہ یسوع کو بھی ہیکل میں لے آئے۔ 28 شمعون بچّہ کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر خدا کی تعریف اس طرح کرنے لگا:

29 “خدا وند نے اپنے وعدہ کے مطابق سکون سے مرنے کے لئے اپنے خادم کو اجازت دے دی۔
30 میں نے خود اپنی آنکھوں سے تیری نجات کو دیکھا ہے۔
31     تو نے تمام لوگوں کے لئے اسکو تیّار کردیا ہے۔
32 وہ غیر یہودیوں کو تیرا راستہ بتا نے کے لئے نور ہوگا
    اس کی وجہ سے تیرے لوگوں کو اسرائیل میں جلال ملیگا۔”

33 شمعون نے بچّے سے جو باتیں کہیں ان باتوں کو سن کر اس کے ماں باپ کو بڑا تعجب ہوا۔ 34 تب شمعون نے ان کو دعائیں دیں یسوع کی ماں مریم سے کہا ، “اس بچّے کی وجہ سے یہودیوں میں کئی گرینگے اور کئی اٹھیں گے۔ اور بعض اسکو قبول نہ کریں گے۔ یہ خدا کی جانب سے نشانی ہوگی جس کو کچھ لوگ رد کریں گے۔ 35 لوگ جن پوشیدہ باتوں کو سوچیں گے وہ ظاہر ہو جائے گی۔اور ایک تلوار تیری جان کو بھی چھید دیگی۔”

حناّ ہ کا یسوع کو دیکھنا

36 ہیکل میں حناّ نامی ایک نبیہ تھی۔ وہ آثر نام قبیلہ کے فنو ایل کے خا ندان سے تعلق رکھتی تھی۔حناّہ بہت عمر رسیدہ ہو چکی تھی۔ وہ اپنی شادی کے سات سال میں اپنے شوہر کو کھو چکی تھی۔ 37 تب اپنی باقی ساری عمر بیوہ رہ کر گذاری اس وقت وہ چوراسی سال کی تھی۔ حناّ ہ ہمیشہ ہیکل ہی میں رہتی تھی وہ اور کہیں نہیں جاتی تھی۔ وہ روزہ رکھتی تھی اور رات دن دُعا کرتے ہوئے خدا کی عبادت کرتی تھی۔

38 وہ اسی وقت وہاں پہونچ کر خدا کا شکر ادا کی اور لوگوں کو یسوع کے بارے میں کہی جو اس نجات کے منتطر تھے جو خدا یروشلم کو دینے والا تھا۔

یوسف اور مریم کا گھر کو واپس ہونا

39 خداوند کی شریعت کے تمام احکامات کو پورا کرنے کے بعد یوسف اور مریم گلیل علاقے میں اپنے خاص گاؤں ناصرت کو واپس لوٹے۔ 40 اس دوران بچّہ بڑا اور طاقتور ہو رہا تھا۔ اور حکمت سے بھی معمور ہو رہا تھا اور خدا کا فضل و کرم اسکے ساتھ تھا۔

بچّہ یسوع

41 ہر سال یسوع کے ماں باپ فسح کی تقریب منانے یروشلم کو جایا کرتے تھے۔ 42 جب یسوع کی عمر بارہ برس کی ہوئی تو وہ ہمیشہ کی طرح فسح کی تقریب منانے کے لئے یروشلم کو گئے۔ 43 تقریب کا دن گزر جانے کے بعد وہ اپنے گھر کے سفر پر روانہ ہوئے لیکن بچّہ یسوع یروشلم ہی میں رک گئے اسکے ماں باپ کو اس بات کا علم نہ تھا اور وہ سمجھے کہ شاید وہ مسافرین کے گروہ میں ہوگا۔ 44 یوسف اور مریم دونوں نے د ن بھر کا سفر کیا جب وہ بچّہ کو نہ پائے تو اپنے خاندان اور اپنے دوستوں رشتہ داروں میں اسکو تلاش کرنے لگے۔ 45 لیکن وہ کہیں بھی یسوع کو نہ پائے تو وہ دوبارہ اسکو ڈھونڈنے کے لئے یروشلم گئے۔

46 تین دن گزر نے کے بعد انہوں نے اس کو دیکھا۔ یسوع ہیکل میں معلّمین شریعت کے ساتھ بیٹھ کر انکی تعلیم کو بغور سن رہا تھا۔ اور حسب ضرورت ان سے سوالات بھی کر رہا تھا۔ 47 اس کی باتوں کو سن کر مزید اسکی سمجھ و فہم اور اسکے دانشمندانہ جوابات پر وہ سب حیرت میں پڑ گئے۔ 48 یسوع کے ماں با پ اس کو وہاں پاکر تعجب ہو گئے۔ مریم نے اس سے کہا ، “بیٹے تو نے ہم سے ایسا کیوں کیا ؟ تیرے باپ اور میں تیرے بارے میں بڑے فکر مند ہوئے تھے۔ اور ہم تجھے ڈھونڈتے رہے۔”

49 یسوع نے ان سے کہا تم نے مجھے کیوں تلاش کیا ؟ میرے باپ کا کام جہاں ہوتا ہے وہاں مجھے رہنا چاہئے۔ 50 لیکن جو کچھ اس نے کہا اسکا مطلب ان کی سمجھ میں نہ آیا۔

51 یسوع انکے ساتھ ناصرت کو آیا اور انکا فرماں بردار رہا اس کی ماں نے ان تمام باتوں کو اپنے دل ہی میں رکھا تھا۔ 52 یسوع علمی صلاحیت میں اور جسمانی طور پر دن بدن بڑھتا رہا خدا اور لوگ اس سے خوش ہوئے۔

Footnotes:

  1. لوقا 2:23 ہر۔۔۔ چاہئے خروج ۱۲-۲:۱۳
  2. لوقا 2:24 دو۔۔۔ چاہئے احبار ۸:۱۲
Urdu Bible: Easy-to-Read Version (ERV-UR)

2007 by World Bible Translation Center

Luke 2 New International Version (NIV)

The Birth of Jesus

In those days Caesar Augustus issued a decree that a census should be taken of the entire Roman world. (This was the first census that took place while[a] Quirinius was governor of Syria.) And everyone went to their own town to register.

So Joseph also went up from the town of Nazareth in Galilee to Judea, to Bethlehem the town of David, because he belonged to the house and line of David. He went there to register with Mary, who was pledged to be married to him and was expecting a child. While they were there, the time came for the baby to be born, and she gave birth to her firstborn, a son. She wrapped him in cloths and placed him in a manger, because there was no guest room available for them.

And there were shepherds living out in the fields nearby, keeping watch over their flocks at night. An angel of the Lord appeared to them, and the glory of the Lord shone around them, and they were terrified. 10 But the angel said to them, “Do not be afraid. I bring you good news that will cause great joy for all the people. 11 Today in the town of David a Savior has been born to you; he is the Messiah, the Lord. 12 This will be a sign to you: You will find a baby wrapped in cloths and lying in a manger.”

13 Suddenly a great company of the heavenly host appeared with the angel, praising God and saying,

14 “Glory to God in the highest heaven,
    and on earth peace to those on whom his favor rests.”

15 When the angels had left them and gone into heaven, the shepherds said to one another, “Let’s go to Bethlehem and see this thing that has happened, which the Lord has told us about.”

16 So they hurried off and found Mary and Joseph, and the baby, who was lying in the manger. 17 When they had seen him, they spread the word concerning what had been told them about this child, 18 and all who heard it were amazed at what the shepherds said to them. 19 But Mary treasured up all these things and pondered them in her heart. 20 The shepherds returned, glorifying and praising God for all the things they had heard and seen, which were just as they had been told.

21 On the eighth day, when it was time to circumcise the child, he was named Jesus, the name the angel had given him before he was conceived.

Jesus Presented in the Temple

22 When the time came for the purification rites required by the Law of Moses, Joseph and Mary took him to Jerusalem to present him to the Lord 23 (as it is written in the Law of the Lord, “Every firstborn male is to be consecrated to the Lord”[b]), 24 and to offer a sacrifice in keeping with what is said in the Law of the Lord: “a pair of doves or two young pigeons.”[c]

25 Now there was a man in Jerusalem called Simeon, who was righteous and devout. He was waiting for the consolation of Israel, and the Holy Spirit was on him. 26 It had been revealed to him by the Holy Spirit that he would not die before he had seen the Lord’s Messiah. 27 Moved by the Spirit, he went into the temple courts. When the parents brought in the child Jesus to do for him what the custom of the Law required, 28 Simeon took him in his arms and praised God, saying:

29 “Sovereign Lord, as you have promised,
    you may now dismiss[d] your servant in peace.
30 For my eyes have seen your salvation,
31     which you have prepared in the sight of all nations:
32 a light for revelation to the Gentiles,
    and the glory of your people Israel.”

33 The child’s father and mother marveled at what was said about him. 34 Then Simeon blessed them and said to Mary, his mother: “This child is destined to cause the falling and rising of many in Israel, and to be a sign that will be spoken against, 35 so that the thoughts of many hearts will be revealed. And a sword will pierce your own soul too.”

36 There was also a prophet, Anna, the daughter of Penuel, of the tribe of Asher. She was very old; she had lived with her husband seven years after her marriage, 37 and then was a widow until she was eighty-four.[e] She never left the temple but worshiped night and day, fasting and praying. 38 Coming up to them at that very moment, she gave thanks to God and spoke about the child to all who were looking forward to the redemption of Jerusalem.

39 When Joseph and Mary had done everything required by the Law of the Lord, they returned to Galilee to their own town of Nazareth. 40 And the child grew and became strong; he was filled with wisdom, and the grace of God was on him.

The Boy Jesus at the Temple

41 Every year Jesus’ parents went to Jerusalem for the Festival of the Passover. 42 When he was twelve years old, they went up to the festival, according to the custom. 43 After the festival was over, while his parents were returning home, the boy Jesus stayed behind in Jerusalem, but they were unaware of it. 44 Thinking he was in their company, they traveled on for a day. Then they began looking for him among their relatives and friends. 45 When they did not find him, they went back to Jerusalem to look for him. 46 After three days they found him in the temple courts, sitting among the teachers, listening to them and asking them questions. 47 Everyone who heard him was amazed at his understanding and his answers. 48 When his parents saw him, they were astonished. His mother said to him, “Son, why have you treated us like this? Your father and I have been anxiously searching for you.”

49 “Why were you searching for me?” he asked. “Didn’t you know I had to be in my Father’s house?”[f] 50 But they did not understand what he was saying to them.

51 Then he went down to Nazareth with them and was obedient to them. But his mother treasured all these things in her heart. 52 And Jesus grew in wisdom and stature, and in favor with God and man.

Footnotes:

  1. Luke 2:2 Or This census took place before
  2. Luke 2:23 Exodus 13:2,12
  3. Luke 2:24 Lev. 12:8
  4. Luke 2:29 Or promised, / now dismiss
  5. Luke 2:37 Or then had been a widow for eighty-four years.
  6. Luke 2:49 Or be about my Father’s business
New International Version (NIV)

Holy Bible, New International Version®, NIV® Copyright ©1973, 1978, 1984, 2011 by Biblica, Inc.® Used by permission. All rights reserved worldwide.

Viewing of
Cross references
Footnotes